ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو میں کسانوں کااحتجاج،ودھان سودھا کا گھیراؤ ۔جب تک تین زرعی قوانین منسوخ نہ ہو جائیں تحریک جاری رہے گی: راکیش ٹکیت

بنگلورو میں کسانوں کااحتجاج،ودھان سودھا کا گھیراؤ ۔جب تک تین زرعی قوانین منسوخ نہ ہو جائیں تحریک جاری رہے گی: راکیش ٹکیت

Mon, 22 Mar 2021 11:13:31    S.O. News Service

بنگلورو،22؍مارچ(ایس او  نیوز) کسان لیڈر راکیش ٹکیت کی قیادت میں بھارتیہ کسان یونین اور کرناٹکا راجیہ رعیت سنگھا کی طرف سے مرکزی حکومت کے منظور کردہ تین زرعی قوانین کے خلاف تحریک شہر بنگلور تک پہنچ چکی ہے۔ بلگاوی میں کسانوں کی مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے ٹکیت نے کہاکہ پیر روز کسان بنگلورو کے ودھان سودھا کا گھراؤ کریں گے۔

اس سے قبل بیلگاوی میں مہا پنچایت سے خطاب کے دوران ٹکیت نے کرناٹک کے کسانوں کو آواز دی ہے کہ جس طرح پنجاب اورہریانہ کے کسانوں نے دہلی کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اسی طرز پر بنگلورو کے چارو ں طرف سے شاہراہوں کو گھیر لینا چاہئے، تاکہ مرکزی حکومت نے کسانوں کے خلاف جو تین قوانین منظورکئے ہیں ان کے خلاف تحریک کو اور مضبوط کیا جائے۔

شیموگہ میں کل شب کسانوں کی مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح دہلی میں احتجاج کیا جا رہا ہے اسی طرح بنگلورو میں بھی چاروں جانب شاہراہوں کو ٹریکٹروں سے بند کردیا جانا چاہئے۔ٹکیت نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں کسانوں نے دہلی میں سڑک پراحتجاج میں حصہ لیا ہے۔ راجدھانی کے سنگھو، ٹکری اور غازی پور سرحدوں پر گزشتہ تین ماہ سے بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک ان تینوں قوانین کو واپس نہیں لیا جاتا ان کے خلاف تحریک رکنی نہیں چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ان تین قوانین کے ساتھ ساتھ دودھ، بجلی اور بیج کے قوانین کی بھی مخالفت کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بینکوں کی نجکاری کی جا رہی ہے، اس کا اثر کسانوں پر راست طورپر پڑے گا،کیونکہ کسان کریڈٹ پر جن کسانوں نے قرضہ لیا ہے ان کے کسان کریڈٹ کارڈ منسوخ ہوسکتے ہیں۔ ان کسانوں نے جوقرضہ لیا ہے وہ اگر اسے نہ لوٹا سکے تو ان سے ان کی زمین چھین لی جائے گی۔ٹکیت نے کہا کہ حکومت کامنصوبہ ہے کہ اگلے 20سال کے دوران کسانو ں سے ان کی پوری زمین چھین کر اسے بینکوں اور صنعتوں کے حوالے کردے اورکسانوں کو مزدور بنا کر رکھ دیا جائے۔


Share: